Popunder ads

Breaking

جمعرات، 27 فروری، 2020

27 فروری جب پاک فضائیہ کے جانبازوں نے دشمن کے غرور خاک میں ملا دیے

چھبیس فروری دوہزار انیس بھارتی فضائیہ کے طیارے رات کی تاریکی میں بزدلوں کی طرح پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوئے تاہم پاک فضائیہ کے ممکنہ رد عمل کا احساس کرتے ہی بوکھلاہٹ میں اپنا پے لوڈ گرا کر بھاگ گئے۔
پے لوڈ نے جہاں کچھ پاکستانی درختوں کو شدید نقصان پہنچایا وہیں ایک معصوم کوا بھی جان سے گیا،اس بزدلانہ کارروائی کو بھارتی ذرائع ابلاغ نے سرجیکل اسٹرائیک کہہ کر پروپیگنڈے کی دھول اڑائی۔
اگلے روز یعنی ستائیس فروری کو بھارت کی جانب سے ایک مرتبہ پھر پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی ہوئی، تاہم اس دفعہ پاک فضائیہ کے ہوا باز حسن صدیقی اور نعمان علی خان نے جے ایف سیونٹین اڑاتے ہوئے انڈیا کو مگ 21 اور ایس یو 30 سے محروم کردیا جبکہ بھارتی ونگ کمانڈر ابھی نندن کو زندہ گرفتار کرلیا،جنہیں خیر سگالی کے جذبے کے تحت دو روز بعد بھارتی حکام کے حوالے کردیا گیا۔
گرفتار بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن نے گھر جاتے ہوئے پاکستانی فوج اور پاکستانی چائے کی بہت تعریف کی،ستمبر انیس سو پینسٹھ میں بھارتی فوج نے لاہور میں صبح کا ناشتہ اور شام کی چائے کی نری خواہش تاریخ کا حصہ ہے لیکن گزشتہ سال ستائیس فروری کو ونگ کمانڈر ابھی نندن کی پاکستان میں چائے کی چسکی بھارت کیلئے ناقابل فراموش سبکی بن کر رہ گئی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Please do Not enter your any spam link in the comment box.