ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ان پانچ اضلاع کے مختلف پروجیکٹس پر 108 چینی انجنیئرز کام کر رہے ہیں جن میں 20 افراد چین کے نئے سال کے تہوار پر اپنے ملک چلے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ضلع بٹگرام میں چینی شہریوں کے 5 کیمپ ہیں۔
ان کیمپوں میں مقیم کسی بھی چینی شہری میں تاحال کرونا وائس کے علامات ظاہر نہیں ہوئے مگر محکمہ صحت کے حکام کیمپ میں موجود چینی باشندوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے کرونا وائرس سے اب تک 427 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 20 ہزار سے زائد افراد میں وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔
وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے آسٹریلیا، امریکا، جاپان، روس، اٹلی، مالديپ اور فرانس نے چين کے ليے پروازیں بند کر رکھی ہيں جبکہ روس نے وائرس سے متاثر غير ملکيوں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کرديا ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث عالمی سطح پر ’ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کردی ہے مگر ساتھ ہی مشورہ دیا ہے کہ چین کے ساتھ بارڈرز بند کرنے کے بجائے ایئرپورٹس پر اسکریننگ کا عمل موثر بنایا جائے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق آمد و رفت اور سرحد بند کرنے کے باعث لوگ غیرقانونی طریقے سے چین سے نکلنے کی کوشش کریں گے جس کے باعث ان کی اسکریننگ ممکن نہیں ہوگی اور اسی طرح کرونا وائرس مزید پھیل سکتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.