Popunder ads

Breaking

جمعرات، 20 فروری، 2020

جرمن کابینہ نے انٹرنیٹ، سوشل میڈیا پر نفرت انگیزی کے خلاف نیا مسودہ قانون منظور کر لیا

 وفاقی جرمن کابینہ انٹرنیٹ کے ذریعے نفرت پھیلانے والوں کے خلاف ملک میں نئے سخت قوانین نافذ کرنے پر متفق ہو گئی ہے۔ وزیر انصاف کرسٹینے لامبریشٹ کی جانب سے پیش کردہ مسودہ قانون کے تحت آئندہ آن لائن تضحیک کے مرتکب افراد اور دھمکیاں دینے والوں کو سخت جرمانے کیے جا سکیں گے جبکہ ایسی کسی بھی آن لائن پوسٹ کے بارے میں حکام کو مطلع کرنا بھی لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ مقامی یا ملکی سیاستدانوں کو بدنام کرنے کی کوششوں کے تناظر میں اس مسودے میں ایسا کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا سکے گی۔ اس قانون میں ایک نقطہ یہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ فیس بک اور ٹویٹر جیسے دیگر سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر اشتعال انگیز مواد کو فوری طور پر ہٹانے کے لیے بھی دباﺅ بڑھایا جائے گا۔ اس قانون کے تحت نہ صرف نیو نازی پراپیگنڈا اور دہشت گرد حملوں کے منصوبوں کو روکا جائے گا بلکہ اموات، زیادتی اور فحش تصاویر شیئر کرنے اور جرائم کی منظوری دینے والے افراد کو بھی پکڑا جائے گا جبکہ آن لائن دھمکیاں دینے پر 3 سال قید کی سزا کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ وزیر داخلہ ہارسٹ سیہوفرنے کہا کہ اس قانون کے تحت نفرت پر مبنی جرائم کا عدالت تک پہنچنے سے قبل ہی خاتمہ کیا جائے گا اور اس میں تعاون سے انکار کرنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو 50 ملین یورو تک جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ اس قانون کو منظوری کے لیے پارلیمنٹ بھیج دیا گیا جہاں جرمن پارلیمان کی جانب سے اس اصلاحاتی قانون سازی کی منظوری ابھی باقی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Please do Not enter your any spam link in the comment box.