واشنگٹن — کرونا وائرس اب چین سے نکل کر کم از کم 40 ملکوں میں پھیل چکا ہے اور اس کے نئے مریضوں کی تعداد چین کے مقابلے میں بیرونی دنیا میں بڑھ گئی ہے۔ اگر یہ وائرس ان غریب اور پس ماندہ ملکوں میں داخل ہو گیا جہاں صحت کی سہولتیں برائے نام ہیں تو اس کی ہلاکت خیزی میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔ وائرس کے پھیلنے کے ساتھ اب یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کہیں یہ کسی بائیو لیب سے تو برآمد نہیں ہوا۔
کرونا وائرس کے متعلق تشویش میں اس لیے بھی اضافہ ہو رہا ہے کہ اس کی لپیٹ میں ایسے افراد بھی آ چکے ہیں، جنہوں نے چین کا سفر کیا تھا نہ ہی وہ چین سے آنے والے کسی شخص سے رابطے میں آئے تھے۔ یہ گتھی ابھی تک نہیں سلجھ رہی کہ انہیں یہ مرض کس طرح لگا۔
ایسے ہی کچھ افراد کا تعلق اٹلی سے ہے جہاں 400 افراد کے وائرس میں مبتلا ہونے اور 12 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ یہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 25 فی صد اضافہ ہے جس سے یورپ کی فکرمندی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے بدھ کے روز کہا کہ دنیا کے دیگر ملکوں میں کرونا وائرس کے نئے مریضوں کی تعداد پہلی بار چین سے بڑھ گئی ہے۔ اٹلی، ایران اور کوریا میں مریضوں کی تعداد میں اچانک بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے جس پر صحت کے عالمی ادارے نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.