Popunder ads

Breaking

منگل، 4 فروری، 2020

کروناوائرس:باپ قرنطینہ میں، معذور بیٹا بھوک سے ہلاک

Weibo
ین چینگ کی کہانی سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہی ہے۔
چین میں دماغی فالج کا شکار ایک بچہ اس وقت بھوک سے ہلاک ہو گیا جب اس کے والد کو، جو اس بچے کی دیکھ بھال کرتا تھا، کرونا وائرس کے شبہے میں قرنطینہ میں رکھ لیا گیا۔
بچے معذور بچے کے بھوک سے مر جانے کی خبریں سامنے کے بعد حکومت نے کمیونسٹ پارٹی کے دو مقامی عہدایداروں کو برطرف کر دیا ہے۔
خبروں کے مطابق سولہ سالہ کاین چینگ بدھ کو مردہ حالت میں پایا گیا۔ ایک ہفتے قبل افسران اس بچے کے والد اور بھائی کو کرونا وائرس کے شبہ میں قرنطینہ کے لیے لے گئے تھے۔
ین چینگ کی کہانی سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہی ہے۔
یہ خاندان وسطی چین کے ہیوبی صوبے میں رہتا ہے جو اس وبا کا مرکز ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق اس بچے کے والد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو پر پوسٹ لکھ کر لوگوں سے مدد کی اپیل کی تھی کہ ان کا بیٹا بھوکا پیاسا گھر پر تنہا ہے۔
دماغی فالج ایک ایسی بیماری ہے جس کے اثرات بچپن میں ہی ظاہر ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے انسان چلنے پھرنے یا کچھ بھی کرنے کی حالت میں نہیں ہوتا۔اس کی علامت میں کمزور پٹھے، جسم میں سوجن، دیکھنے ، سننے یا بولنے کی صلاحیت کا متاثر ہونا اور جسم کو جھٹکے لگنا شامل ہے۔اس بیماری کے شکار لوگ پوری طرح سے معذور ہو جاتے ہیں۔
چینی اہلکاروں بچے کی ہلاکت کی مکمل تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔
چین میں کرنا وائرس سے 361 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 17000 افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔اس کے علاوہ چین کے باہر دیگر ممالک میں ڈیڑھ سو سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ فلپائن میں اس وائرس سے ایک ہلاکت کی اطلاع ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس وائرس کے مزید پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ چینی حکام نے اس وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Please do Not enter your any spam link in the comment box.