اسلام آباد: (19 فروری 2020) وزیراعظم عمران خان نے کشمیری عوام کی جدوجہد اور حق خودارادیت کیلئے پاکستان کی حمایت کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کیلئے جھوٹے آپریشن کا سہارا لے سکتا ہے۔
وزیراعظم عمران خان سے برطانوی پارلیمنٹ کے وفد کی ملاقات کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔ وفد کی قیادت آل پارٹیز پارلیمانی کشمیر گروپ کی چیئرمین ڈیبی ابرہمس نے کی۔
اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے کشمیر کے تنازع پر گروپ کی مستقل توجہ اور وادی میں انسانی حقوق کی صورتحال پر گروپ کی رپورٹس کے کردار کی تعریف کی۔
وزیراعظم نے بھارت کی غیرقانونی اور یکطرفہ کارروائیوں کے نتیجے میں انسانیت سوز حالات سے متعلق وفد کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ 80 لاکھ کشمیری گزشتہ چھ ماہ سے ایک فوجی محاصرے میں ہیں۔ کشمیریوں سے انسانی حقوق اور آزادیاں چھین لی گئیں ہیں۔
بھارتی قیادت کی جارحانہ بیان بازی سے خطے کے امن کو لاحق خطرات پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بی جے پی حکومت آر ایس ایس سے متاثر ہو کر ہندوتوا نظریے کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی کررہی ہے۔ ہندوتوا نظریہ ہندوستان کی اقلیتوں کیلئے بھی جگہ محدود کررہا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کارروائیوں سے بین الاقوامی توجہ ہٹانے کیلئے ہندوستان جھوٹے آپریشن کا سہارا لے سکتا ہے۔ جنوبی ایشیاء میں امن، سلامتی اور استحکام کیلئے جموں و کشمیر تنازعہ کا ایک مستقل اور دیرپا حل ضروری ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ عالمی برادری انسانیت کے خلاف بھارت کے جرائم کے حوالے سے شعور اجاگر کرے، اور جموں و کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.