Popunder ads

Breaking

ہفتہ، 1 فروری، 2020

استاد کی طلباء کے ساتھ بنائی گئی ٹک ٹاک کا برا انجام

ویڈیو میں طالبہ اور استاد کو نامناسب انداز میں دکھایا گیا تھا اور دونوں کی ویڈیو کسی تیسرے فرد نے ریکارڈ کی تھی۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کالج انتطامیہ نے معاملے کی تفتیش کا حکم دیا اور تفتیش میں یہ بات ثابت ہوئی کہ وائرل ہونے والی ویڈیو کالج میں ہی بنائی گئی تھی۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کالج انتظامیہ نے لیکچرر اور طالبہ پر پابندی عائد کردی۔
کالج کے پرنسپل ڈاکٹر محمد اشفاق نے نامناسب ویڈیو بنائے جانے والے واقعے کی تصدیق کی اور بتایا کہ اب ویڈیو میں نظر آنے والے لیکچرر اور طالبہ کا معاملہ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کے پاس ہے۔
پرنسپل کے مطابق ویڈیو بنائے جانے کے معاملے کو اب ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن اور سیکریٹری ایجوکیشن کے پاس ہے جو ان سے متعلق فیصلہ کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ اعلیٰ حکام کے ہی ویڈیو بنانے والے لیکچرر کے حوالے سے فیصلہ کریں گے کہ ان کے خلاف کیا محکمانہ کارروائی کی جائے یا پھر ان دونوں کو پولیس کے حوالے کیا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ حکام کی جانب سے ویڈیو بنانے والے لیکچرر اور طالبہ کے خلاف اعلیٰ حکام کی جانب سے کارروائی کے فیصلے سے قبل ہی کالج انتطامیہ نے دونوں پر پابندی عائد کردی۔
خیال رہے کہ ویڈیوز بناکر ٹک ٹاک پر اپ لوڈ کرنے پر پہلے بھی پاکستان میں سرکاری و نجی ملازمین پر پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔
اس واقعے سے قبل پاکستان ایئرلائن (پی آئی اے) کی ایئرہوسٹس سمیت دیگر اداروں کے ملازمین پر ٹک ٹاک ویڈیو بنانے پر محکمانہ کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Please do Not enter your any spam link in the comment box.