انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سعودی عرب کی جانب سے گانا ’بنت مکہ‘ گانے والی گلوکارہ اصایلی کی گرفتاری کے حکم پرشدید برہمی کا اظہار کیاگیا ہے اور سعودی حکومت کے اقدام کو منافقت قراردے دیا۔
ٹویٹر پر اصایلی کی گرفتاری سے متعلق ایک بیان میں ایمنسٹی نے کہا کہ “سعودی حکام کی جانب سے اصایلی کے گانے ‘بنت مکہ’ کو گرفتار کرنے کی خبروں پر شدید تشویش ہے، جبکہ سعودی حکومت موسیقی کے بڑے بڑے میلوں اور بین الاقوامی فنکاروں کو سعودی سلطنت خود میزبانی کیلئے دعوت دیتی ہے۔
حال ہی میں بنت مکہ‘ یعنی ’مکہ کی لڑکی‘ کے گانے کو گانے والی گلوکارہ اصایلی کو مکہ کے گورنر شہزادہ خالد بن فیصل نے گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔
أمير مكة #خالد_الفيصل يوجه بإيقاف المسؤولين عن إنتاج فيديو أغنية الراب ( بنت مكه ) الذي يسيء لعادات وتقاليد أهالي مكة ويتنافى مع هوية وتقاليد أبنائها الرفيعة. .. تضمن توجيه سموه إحالتهم للجهات المختصه للتحقيق معهم وتطبيق العقوبات بحقهم.#لستن_بنات_مكه pic.twitter.com/zVqggEujfh
— إمارة منطقة مكة (@makkahregion) February 20, 2020
سعودی عرب اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے خاص اہمیت رکھنے والی شہر مکہ میں بننے والا گانا بنت مکہ یعنی مکہ کی لڑکی یوٹیوب پر وائرل ہوا۔ جس کے بعد کچھ لوگوں نے اس گانے کو پسند کیا تو دوسری جانب بہت سارے لوگوں نے اس کو مقدس مقامات پر بنائے جانے کے حوالے سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق وائرل ویڈیو میں ریپ کرنے والی گلوکارہ کے ساتھ کم عمر لڑکیوں کو بھی رقص کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ جس پر ایکشن لیتے ہوئے مکہ کے گورنر شہزادہ خالد بن فیصل نے افریقی نژار اصایلی کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔
یوٹیوب پر وائرل ہونے والی مذکورہ ویڈیو لڑکی نے چند روز قبل یوٹیوب پر جاری کی تھی جس میں وہ حجاب پہنے مکہ مکرمہ کے مختلف ہوٹلوں اور چائے خانوں میں گلوکاری کرتی دکھائی دیں۔ اصایلی کے علاوہ ویڈیو میں کم عمر لڑکیوں اور لڑکوں کو ڈانس کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ تاہم وہ تمام مکمل لباس میں تھے۔ جس میں یہ پیغام دیا گیا کہ مکہ کی لڑکیاں بہت خوبصورت ہوتی ہیں اور اس شہر کے لوگ دوسرے شہر کی لڑکیوں کی بہت عزت کرتے ہیں۔
اصایلی کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو عرب سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوگئی تھی جس پر لوگوں نے مقدس شہر مکہ کی لڑکیوں اور لڑکوں کو یوں ڈانس کرتے ہوئے دکھانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر مہم شروع کی جس میں انہوں نے ریپر کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ تاہم ویڈیو کو تو یوٹیوب سے شروع مہم کے بعد ہٹا دیا گیا لیکن اب بھی مذکورہ ویڈیو بعض یوٹیوب چینلز اور ایپس پر موجود ہے۔
what did they do wrong?
rap? – Saudi Arabia has invited Nicki Minaj + other rappers
dance? – Saudi Arabia has always hosted music/dance festivals
clothing? – many people in KSA dress like them
be in Mecca? – they are FROM MECCA! that is THEIR HOME!
they have broken NO LAWS!
— Amooni || 🇮🇶 🏳️🌈❣ (@a_manluv) February 24, 2020
آخری اطلاعات تک تاحال گلوکارہ کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ تاہم گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.