پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدوں کے تفصیلات فراہم کی ہیں۔
مہاتیرمحمد نے کہا کہ ملائیشیا پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کا خواہاں ہیں اور ہم پہلے بھی پرٹون کارز کا پلانٹ لگا رہے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ دورہ ملائیشیا کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان نزدیکیاں بڑھانا ہے، میں اپنے ہم منصب کا شکرگزار ہوں جنہوں نے کشمیر کے معاملے پرہمارے مؤقف کی تائید کی۔
بھارت نے کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے اور نوجوانوں کو جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ مجھے کولالمپور سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا افسوس ہے۔
ہمارے ایک دوست ملک کو لگا کہ کولالمپور سمٹ امت کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے جو کہ غلط تھا، ہمیں(مسلمانوں) کو چاہیے اسلاموفوبیا اور امت مسلمہ کو درپیش مسائل کے خلاف مل کر جدو جہد کریں، میرا نہیں خیال ہے کہ کولالمپور سمٹ کا مقصد امت کو تقسیم کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کولالمپور سمٹ کے متعلق دوست ممالک میں پائے جانے والے خدشات ختم ہوگئے ہیں اور میں آئندہ سمٹ میں ضرور شرکت کروں گا۔
عمران خان نے کہا کہ اگر بھارت مسئلہ کشمیر پر بات کرنے کی وجہ سے ملائیشیا کے ساتھ تجارت کم کرے گا تو ہم اس کی کمی پوری کریں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.