برازیلی حکومت نےشادی سےقبل جنسی تعلقات استوار کرنےسےروکنےکےلئے مہم کا آغازکردیاہے۔
امریکی اخبارکی رپورٹ کےمطابق برازیلی صدرجیئربولسونوروکی ہدایات پرملک بھرمیں ایک مہم شروع کی ہوئی ہےجس کےتحت نوجوانوں کوسمجھایاجارہاہےکہ وہ شادی سےقبل جنسی تعلقات استوارنہ کریں۔
رپورٹ کےمطابق برازیل کی حکومت کوشادی سےقبل جنسی تعلقات استوارکرنےسےنوجوانوں کوروکنے کی مہم شروع کرنے پر تنقید کاسامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نوجوانوں کوجنسی تعلقات استوارکرنےسےروکنے کی انوکھی مہم کوبرازیل کی وزارت خواتین، خاندان وانسانی حقوق نےمتعدد سماجی تنظیموں کے ساتھ شروع کیا ہے۔
مہم کامقصدزیادہ سے زیادہ 13 سے 19 سال کے نوجوانوں تک رسائی کرکے انہیں نوعمری میں جنسی تعلقات استوار کرنے سے روکنا ہے۔
برازیل کا شماردنیا کےان ممالک میں ہوتاہےجہاں نوعمرلڑکیاں سب سےزیادہ حاملہ ہوتی ہیں۔
اقوام متحدہ کی جانب سے گزشتہ سال جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق برازیل میں 1990 میں ہر 1ہزار لڑکیوں میں سے 80 نوعمر لڑکیاں حاملہ ہوجاتی تھیں تاہم سال 2000 کے بعد اس تعداد میں کچھ کمی ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق 2017 میں برازیل کے اندر ہر 1 ہزار لڑکیوں میں سے 64 نوعمر لڑکیاں حاملہ بنیں اور 2018 میں مجموعی طور پر 44 ہزار کم عمر لڑکیاں حاملہ ہوئیں۔
عالمی سطح پر 2017 میں ہر 1 ہزار لڑکیوں میں 44 نوعمر لڑکیاں حاملہ بن رہی تھیں اور برازیل میں یہ تعداد دنیا کے تمام ممالک سے زیادہ تھی۔
حکومتی وزرا،ارکان اور حکومت کے حامی نوجوانوں کو سوشل میڈیا اور سیمینارز کے دوران مشورہ دیتے دکھائی دیتے ہیں کہ ایچ آئی وی سمیت اسی طرح کی دیگر بیماریوں سے بچنے کا واحد طریقہ ’جنسی تعلقات‘ سے پرہیز ہے۔
امریکی اخبارکےمطابق برازیل میں عام طورپرلڑکیاں ہائی اسکول کی تعلیم کےدوران ہی حاملہ ہوجاتی ہیں اوروہ کالج میں پہنچنے سے قبل ہی ماں بن چکی ہوتی ہیں۔
اخبارنےاپنی رپورٹ میں محض 15 سال کی عمرمیں حاملہ بن جانے والی ایک لڑکی کاحوالہ بھی دیاہےجس نےبتایاکہ جب وہ ہائی اسکول میں پڑھ رہی تھیں تب وہ حاملہ ہوگئیں اور ان کی کلاس کی 80 فیصد لڑکیاں بھی ان کی طرح حاملہ ہوگئی تھیں۔
دوسری جانب حکومتی مہم پر تنقید کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ حکومت مذکورہ مہم کے ذریعے نوجوانوں کواپنے فیصلےخود کرنے کی صلاحیت سے محروم کرنے سمیت ان کے بنیادی حقوق پر قدغن لگا رہی ہیں۔
دوسری جانب حکومت کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن ملک میں نوعمر افراد کو سیکس کی جانب راغب کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.