چین میں کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد پاکستانی عوام بھی اس سے بچنے کے لیے نہایت فکر مند ہیں اور مختلف احتیاطی تدابیر بھی اختیار کر رہے ہیں۔ تاہم اس خدشے کا کوئی اثر ملک میں قائم چینی ریستورانوں پر نہیں ہوا ہے اور ان میں کاروبار معمول کے مطابق جاری ہے۔
سوشل میڈیا پر مختلف افواہیں گردش میں ہیں جن میں لوگوں کو نہ صرف چین سے آنے والی اشیائے خورد و نوش بلکہ دیگر درآمد شدہ چیزوں سے بھی کورونا وائرس کے پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر ڈرایا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف ایسی پوسٹس بھی گردش میں ہیں جن میں ان افواہوں کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مگر یہ بحث اور احتیاط صرف سوشل میڈیا تک ہی محدود ہے، باہر بازار میں لوگ چائنہ سے آئی اشیا خرید بھی رہے ہیں اور چینی ریستورانوں میں جا کر طعام بھی کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیںووہان میں کورونا سے لڑنے والا پہلا پاکستانیNode ID: 456646کورونا وائرس سے مزید 64 ہلاکNode ID: 457001چین: 68 کروڑ 50 لاکھ ڈالر امداد کی اپیلNode ID: 457241 کراچی کے علاقے بہادرآباد میں پیکنگ کے نام سے چینی ریستوران دہائیوں سے موجود ہے، اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی خبروں کا وہاں لوگوں کی آمد پر اثر نہیں پڑا۔
ان ریستورانوں کے مالکان کا کہنا تھا کہ وہ سالوں سے یہاں ہے اب تو یہاں کے لوگ انہیں پہچانتے ہیں اور کھانے کے معیار پر اعتماد کرتے ہیں۔
طارق روڈ پر واقع ایسے ہی ایک ریستوران کے چائینیز مالک نے اردو نیوز کو بتایا کہ کراچی میں چلنے والے تمام چائینیز ریستوران اپنے استعمال کی اشیا یہیں سے خریدتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ روزمرہ استعمال کے مصالحہ جات، گوشت اور دیگر اشیا کراچی میں دستیاب ہیں، حتیٰ کہ وہ خاص مچھلیاں جو پاکستانی نہیں کھاتے، جیسے کہ سکویڈ اور دیگر سمندری حیات جنہیں صرف چینی افراد کھاتے ہیں وہ بھی تو یہیں کراچی سے برآمد ہو کر چائنہ جاتی ہیں۔ ’سو تمام اشیا یہیں دستیاب ہیں انہیں چائنہ سے منگوانے کا کوئی جواز نہیں۔‘
فوڈ بلاگر عادل رضا کے مطابق کراچی میں بنے ریستورانوں نے اپنے مینیو کو علاقائی ضرورتوں کے مطابق ڈھال لیا ہے۔ (فوٹو:سوشل میڈیا)جب فوڈ سیفٹی ایکسپرٹ عثمان غنی سے اس بابت استفسار کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اگر کھانے کی اشیا فروزن حالت میں چین سے لائی بھی جائیں تو ان میں وائرس کے اثرات باقی رہنے کی کوئی صورت نہیں بنتی۔ اس حوالے سے انہوں نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے جاری آگہی مہم کا حوالہ بھی دیا جس میں ڈبلیو ایچ او نے یہ واضح کیا ہے کہ کسی قسم کے لفافے یا پارسل کے ذریعے اس وائرس کے پھیلنے کا خدشہ نہیں۔ یہ آگاہی مہم مختلف ممالک کے لوگوں کی جانب سے چائنیز پراڈکٹس کے مبینہ بائیکاٹ کے پیشِ نظر شروع کی گئی تھی۔
اس معاملے پر فوڈ بلاگر اور مبصر عادل رضا نے اردو نیوز کو بتایا کہ کراچی میں بنے وہ ریستوران جو کہ مستند چائینیز ڈشز بناتے ہیں انہوں نے بھی اپنے مینیو کو علاقائی ضرورتوں کے مطابق ڈھال لیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بے شک یہ ریستوران وہی چائنیز ذائقہ فراہم کرتے ہیں مگر ان کے زیرِ استعمال تمام اشیا حلال ہوتی ہیں جو مقامی مارکیٹ سے ہی حاصل کی جاتی ہیں۔ ’ایسے میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ وہ جن اشیا سے مبینہ طور پر پھیلا ہے وہ یہاں مینیو میں ہی نہیں۔‘
پاکستان میں بہت سے چائنیز ریستوارن کھلے ہوئے ہیں (فوٹو:اے ایف پی)کراچی میں متعدد ایسے ریستوران موجود ہیں جو مستند چائینیز کھانے کھلانے کا دعویٰ کرتے ہیں اوران میں سے بیشتر کے مالکان بھی چائنیز شہری ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں قائم ان چینی ریستوران میں سے چند پی آف چینگ، جنسوئے، لا چینے، چائنہ ٹاؤن اور پیکنگ شامل ہیں جن کے مینو میں صرف چائینیز کھانے ہوتے ہیں۔
آئی ٹی پروفیشنل رابعہ غریب کا کہنا ہے اگر حفظانِ صحت کے اصولوں کا خیال نہ رکھا جائے تو کوئی بھی کھانا یا پھل نقصان دہ ہو سکتا ہے، لہٰذا کسی خاص ریستوران کو نشانہ بنانا ٹھیک نہیں۔
ان کا کہنا تھا کراچی کے لوگوں نے بھی اس حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں پر کان نہیں دھرے جس کا ثبوت چائنیز ریستوران پر عوام کی معمول کے مطابق آمد ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.