Popunder ads

Breaking

جمعرات، 6 فروری، 2020

'اس زندگی کا کیا فائدہ جب میں اپنے بچوں کا پیٹ ہی نہیں بھر سکتی؟ ‘

مایوسی، بیتابی اور بھوک کا سامنہ کرنے والی پریما آخرکار ایک دن ایک مشکل نتیجے پر پہنچیں، انھوں نے اپنے بال بیچ دیے۔
'میرا سات برس کا بچہ کلیاپن ایک دن سکول سے آیا اور مجھ سے کھانے کا پوچھا۔ پھر وہ بھوک کے مارے رونا شروع ہوگیا۔'
یہ الفاظ ہیں بھارتی ریاست تمل ناڈو میں رہنے والی 31 برس کی پریما سیلوم کے۔ ان کے پاس اپنے سات برس کے بچھ کو دینے کے لیے کچھ نہیں تھا اور وہ بہت مایوس تھیں۔
پریما نے کچھ پکایا نہیں تھا کیونکہ ان کے پاس کچھ پکانے کے لیے تھا ہی نہیں۔ مایوسی، بیتابی اور بھوک کا سامنا کرنے والی پریما آخرکار ایک دن ایک مشکل نتیجے پر پہنچیں۔ ان کے اس فیصلے سے وہاں رہنے والی مقامی آبادی بھی حیران ہوئی۔
اپنے بچوں کی بوکھ دیکھ کر پریما سے رہا نہیں گیا

'دل ٹوٹ گیا'

'150 روپے میں اپنے بال فروخت کردیے'

Getty Images
بہت سے ہندو عقیدت مند مندروں میں اپنے بالوں کو نذرانے کے طور پر پیش کرتے ہیں

خاوند کی خودکشی

پریما بہت عرصے تک اپنے شوہر کے ساتھ اینٹوں کے بھٹے میں کام کرتی رہیں، اس سے دونوں میاں بیوی اتنا کم لیتے کہ ان کا بمشکل گزارا ہوجاتا

خودکشی کی کوشش

خوش قسمتی سے ان کی بہن جو ان کی پڑوسن بھی ہیں آگئیں اور انھیں یہ زہریلا پیسٹ کھانے سے روک لیا۔

مزدوری

بال فروخت کرنے کے بعد پریما کو فوراً رقم ملی جس سے انھوں نے اپنے بچوں کا پیٹ بھرا

غیب سے مدد

بالا مروگن نے پریما کے لیے ایک دن میں فیسبک پر عطیات کے ذریعے ایک لاکھ 20 ہزار کی رقم اکھٹا کرلی

ایک دوست کی نصیحت

نڈیا کی معاشی ترقی کے باوجود لاکھوں لوگ کو ایک وقت کا کھانا تک نصیب نہیں ہوتا

ایک نئی زندگی

پریما کہتی ہیں کہ انھیں اپنا سر منڈوا کر کوئی افسوس نہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Please do Not enter your any spam link in the comment box.