'میرا سات برس کا بچہ کلیاپن ایک دن سکول سے آیا اور مجھ سے کھانے کا پوچھا۔ پھر وہ بھوک کے مارے رونا شروع ہوگیا۔'
یہ الفاظ ہیں بھارتی ریاست تمل ناڈو میں رہنے والی 31 برس کی پریما سیلوم کے۔ ان کے پاس اپنے سات برس کے بچھ کو دینے کے لیے کچھ نہیں تھا اور وہ بہت مایوس تھیں۔
پریما نے کچھ پکایا نہیں تھا کیونکہ ان کے پاس کچھ پکانے کے لیے تھا ہی نہیں۔ مایوسی، بیتابی اور بھوک کا سامنا کرنے والی پریما آخرکار ایک دن ایک مشکل نتیجے پر پہنچیں۔ ان کے اس فیصلے سے وہاں رہنے والی مقامی آبادی بھی حیران ہوئی۔

'دل ٹوٹ گیا'
'150 روپے میں اپنے بال فروخت کردیے'

خاوند کی خودکشی

خودکشی کی کوشش
خوش قسمتی سے ان کی بہن جو ان کی پڑوسن بھی ہیں آگئیں اور انھیں یہ زہریلا پیسٹ کھانے سے روک لیا۔
مزدوری

غیب سے مدد

ایک دوست کی نصیحت

ایک نئی زندگی


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.