Popunder ads

Breaking

اتوار، 2 فروری، 2020

عمر اکمل کی ٹرینر سے مبینہ بدتمیزی: ’بتاؤ چربی کہاں ہے‘


پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹسمین عمر اکمل نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں فٹنس ٹیسٹ کے دوران مبینہ طور پر عملے کے ساتھ بدتمیزی کی ہے جس کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر ان کے خلاف کارروائی کرے گا۔
سپورٹس ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق فٹنس ٹیسٹ کے دوران غصے میں آکر سٹاف کے ساتھ بدتمیزی کرنے پر عمر اکمل اگلے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ سے باہر ہو سکتے ہیں۔
عمر اکمل کی طرح ان کے بڑے بھائی کامران اکمل بھی ممکنا طور پر اگلے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ سے باہر ہو جائیں گے کیونکہ دونوں بھائیوں کو فٹنس ٹیسٹ میں بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
مزید پڑھیںبنگلہ دیش پاکستان آنے پر کیسے راضی ہوا؟Node ID: 454676انڈر19 ورلڈکپ: پاکستان سیمی فائنل میںNode ID: 456311بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سکواڈ کا اعلانNode ID: 456451
ان کے علاوہ دائیں بازو کے بیٹسمین اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ کو بھی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ وہ فٹنس ٹیسٹ سے اس وقت باہر ہوگئے جب انہوں نے پی سی بی حکام سے یہ ٹیسٹ کسی اور دن پر شیڈول کرنے کی درخواست کی مگر ان کی یہ درخواست رد کر دی گئی۔
عمر اکمل اور کامران اکمل کا فٹنس ٹیسٹ پاس نہ کر پانا کوئی نئی بات نہیں بلکہ ماضی میں متعدد بار دونوں بھائیوں کو فٹنس کی وجہ سے ٹیم سے باہر بیٹھایا جاتا رہا ہے۔
سابق کوچ مکی آرتھر اور پی سی بی حکام نے عمر اکمل کو فٹنس ٹیسٹ پاس نہ کر پانے پر 2017 کی چیمپئینز ٹرافی سے چند روز قبل انگلینڈ سے وطن واپس بھیج دیا تھا۔ دوسری طرف کامران اکمل بھی فٹنس مسائل کے باعث 2017 کے بعد سے پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں جگہ نہیں بنا سکے ہیں۔
کامران اکمل بھی فٹنس ٹیسٹ میں بری طرح ناکام ہو گئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)کرک انفو کے مطابق ’سکن فولڈ‘ فٹنس ٹیسٹ کے دوران عمر اکمل نے اپنے کپڑے اتار دیے اور ٹرینر سے پوچھا کہ ’بتاو چربی کہاں ہے۔‘
کامران اکمل کے مطابق عمر اکمل نے ایسا شرارتاً کیا اور یہ محض ایک ’غلط فہمی‘ تھی۔
پی سی بی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے سے مکمل طور پر آگاہ ہیں اور عمر اکمل کے لیے ممکنہ سزا پر غور کر رہے ہیں۔ عمر اکمل سزا کے طور پر آئندہ ڈومیسٹک ون ڈے کپ سے باہر ہو سکتے ہیں۔
دوسری طرف کامران اکمل دو بار فٹنس ٹیسٹ کے لیے بلائے جانے پر نیشنل اکیڈمی نہیں آئے اور بالآخر جب تیسری بار ٹیسٹ دیا تو وہ لگ بھگ تمام ڈیپارٹمنٹس میں ناکام ہو گئے۔ پہلی بار کامران اکمل کا فٹنس ٹیسٹ 11 جبکہ دوسری بار 20 جنوری کو ہونا تھا لیکن وہ ان تاریخوں پر غیر حاضر رہے۔
کامران اکمل کے مطابق ’میں نے دونوں بار انتظامیہ کو بتایا کہ میں نہیں آ سکوں گا، کچھ وجوہات تھیں اور میں 28 جنوری کو ٹیسٹ کے لیے آیا۔ جہاں تک فٹنس کے رزلٹ کا سوال ہے تو پی ایس ایل کے بعد آپ کو اس میں بہتری نظر آئے گی۔‘
سلمان بٹ بھی فٹنس ٹیسٹ میں شرکت نہ کرنے کے باعث ون ڈے کپ سے باہر ہو سکتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سیلکٹر اور کوچ مصباح الحق سے کامران اکمل کو ٹیم میں نہ لیے جانے کے حوالے سے کئی بار سوال کیا گیا ہے۔ ان سے یہ سوال حال ہی میں اس وقت بھی پوچھا گیا جب انہوں نے بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ میچ کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کا اعلان کیا تھا۔
مصباح نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہمارے دونوں اوپنرز نے رنز بنائے ہیں اور ظاہر ہے آپ تب ہی کسی کھلاڑی کو واپس ٹیم میں لیتے ہیں جب کوئی جگہ خالی ہو۔ کچھ کھلاڑی اچھا پرفارم کر رہے ہیں لہذا آپ کو انتظار کرنا پڑے گا۔‘
اکمل برادران اور سلمان بٹ نے اپنی صوبائی ٹیموں یا پی سی بی کے ساتھ کوئی کنٹریکٹ سائن نہیں کیا ہوا اور یہ تینوں کھلاڑی کسی کنٹریکٹ کے بغیر ہی ڈومیسٹک کرکٹ کھیل رہے تھے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Please do Not enter your any spam link in the comment box.