خرطوم۔ 24 فروری (اے پی پی)اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ ، ورلڈ فوڈ پروگرام اور جنوبی سوڈان کی حکومت کی جانب سے مشترکہ طور پر حال ہی میں جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی سوڈان کی نصف سے زیادہ آبادی رواں سال مئی سے جولائی تک شدید قحط کا شکار بن جائے گی اور یہ تعداد کم از کم65 لاکھ تک ہوسکتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال جنوبی سوڈان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خوراک کی صورتحال شدید متاثر ہوئی ہے۔اسی سال جنوری میں جنوبی سوڈان کے 50 لاکھ سے زیادہ افراد خوراک کی کمی کا شکار ہو گئے ہیں۔سیلاب ، بے گھر افراد، کئی علاقوں میں خراب سکیورٹی صورتحال، اقتصادی بحران اور فصلوں کی پیداوار میں کمی سمیت متعدد وجوہات کی بناپر خوراک کے ذخائر میں کمی اور خوراک کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ اندازے کے مطابق اس ماہ کے آخر تک قحط کی صورتحال مزید شدید ہونے کااندیشہ ہے۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی سوڈان میں اس سال شدید غذائی کمی کے شکار بچوں کی تعداد 13 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔
پیر، 24 فروری، 2020
جنوبی سوڈان کی نصف سے زیادہ آبادی قحط کا شکار بن جائے گی ،اقوام متحدہ اور جنوبی سوڈان حکومت کی مشترکہ رپورٹ
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.