Popunder ads

Breaking

منگل، 4 فروری، 2020

#CoronaVirus: چین میں پھیلنے والا کورونا وائرس اب تک ’عالمی وبا نہیں بنا ہے‘

Getty Images
عالمی ادارہ برائے صحت نے کہا ہے کہ چین میں پھیلنے والا تباہ کن کورونا وائرس کو ابھی تک عالمی وبا قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔
اس بیماری سے چین میں کم از کم 427 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے گلوبل وبائی امراض سے بچاؤ کے مرکز کے سربراہ سلوئی برائینڈ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس چین کے صوبے ہوبائی میں تیزی سے پھیل رہا ہے لیکن موجودہ صورتحال ’عالمی وبا‘ کے زمرے میں نہیں آتی۔
ڈبلیو ایچ او کی اہلکار نے کورونا وائرس کو روکنے کے لیے چینی حکومت کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ دنیا اس وبا پر قابو پا لے گی۔
ڈبلیو ایچ او کی اہلکار نے بے بنیاد افواہوں کو بھی روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انھوں نے کہا کہ جب کوئی وبا پھیلتی ہے تو اس وبا کے ساتھ ’اطلاعات کی وبا‘ پھیلنے لگتی ہے جسے ہم ’انفوڈیمک ‘ کہتے ہیں اور اسے روکنے کی ضرورت ہے۔

Getty Images
چینی پولٹ بیورو کم ہی کوتاہیوں کا اعتراف کیا ہے۔

چین نے تسلیم کیا ہے کہ ردعمل میں کوتاہیاں ہوئیں

چین کی کیمیونسٹ پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے یہ تسلیم کیا ہے کہ حالیہ مہلک کورنا وائرس کے نام سے پہچانی جانے والی وبائی بیماری سے نمٹنے کے لیے حکومت کا جو رد عمل سامنے آیا تھا اس میں ’کوتاہیاں اور نقائص‘ تھے۔
ایسا کم ہی دیکھنے میں آیا ہے کہ کیمونیسٹ پارٹی کی پولٹ بیورو کی ایک سٹینڈنگ کمیٹی نے ان کوتاہیوں کو تسلیم کیا ہو۔ اسی کمیٹی نے چین کے ہنگامی حالات سے نمٹنے کی انتظامی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا ہے۔
اسی کمیٹی نے شہروں میں غیر قانونی طور پر بننے والی جنگلی جانوروں کی خرید و فروخت کی منڈیوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس ایسی ہی منڈیوں سے نکلا ہے۔
اب تک کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 425 ہو چکی ہے جبکہ اس سے مصدقہ طور پر متاثر ہونے والوں کی تعداد بیس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
پولٹ بیورو کی کمیٹی کے بیان کے مطابق ’ہمیں اپنی کوتاہیوں اور نقائص کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی انتظامی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور فوری نوعیت کے خطرناک معاملات سے ہنگامی بنیادوں پر نبردآزما ہونے کے لیے اپنی قابلیت کو بڑھانا چاہیے۔
’یہ ضروری ہے کہ مارکیٹوں کی نگرانی کے نظامِ کار کو موثر بنایا جائے، غیر قانونی جنگلی حیات کی مارکیٹوں پر سختی کے ساتھ پابندی نافذ کی جائے اور ان میں تجارت کو ختم کیا جائے۔‘
حکومت کی جانب سے اس وبا کے پھیلنے کے آغاز میں کیے گئے اقدامات پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔
حکام اور سرکاری اہلکاروں پر الزامات لگ رہے ہیں کہ انھوں نے اس وبا کے شروع کے دنوں میں اس کی سنگینی کو اصل سے کم بیان کرنے کی کوشش کی اور بعض واقعات میں تو خبر ہی کو چھپائے رکھنے کی کوشش کی۔
ووہان کے ایک ڈاکٹر جس نے گزشتہ برس اپنے ایک ساتھی کو اس وبا کے پھیلنے کے بارے میں خبردار کرنے کی کوشش کی تھی اس پر جھوٹی رائے دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا اور اُسے پولیس نے تنبیہ کی تھی کہ وہ ’غیر قانونی سرگرمیوں‘ سے باز رہے۔
اس برس کے آغاز میں حکومت نے ہوبائی صوبے کا مکمل طور پر لاک ڈاؤن کیا جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس اس خطے سے پھیلا ہے۔
چین میں اس صوبے کے قریبی علاقے بھی اس وائرس کے اثرات کو براہ راست محسوس کر رہے ہیں۔
منگل ہی کو ہانگ کانگ نے کورونا وائرس سے ہونے والی پہلی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ایک مقامی ٹیلی ویژن چینل نے کہا ہے کہ انتالیس برس کا ایک مرد جس میں اس بیماری کی علامتیں دیکھی گئیں تھیں، 21 جنوری کو ووہان گیا تھا۔
Getty Images
چین میں کورونا وائرس سے 427 افراد ہلاک ہو چکے ہیں
تائیوان نے گزشتہ جمعے یہ اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی غیر ملکی جو گزشتہ چودہ دنوں میں چین گیا ہو گا اس کے تائیوان میں آنے پر پابندی ہوگی۔
مکاؤ نے، جو کہ ایشیا میں جوئے خانوں کا سب سے بڑا مرکز ہے، بھی اعلان کیا ہے کہ وہاں تمام کیسینو بند کیے جا رہے ہیں۔
فی الحال یہ پابندی دو ہفتوں کے لیے ہے لیکن اس میں توسیع بھی کی جاسکتی ہے۔
کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی علامتوں میں سب سے پہلے سانس کی تکلیف ہے اور ابتدائی سطح پر بخار ہے پھر اس کے بعد کھانسی شروع ہوجاتی ہے۔
سنہ 2002-03 میں ہانک کانگ کے علاوہ چین کی سرزمین میں 349 افراد ’سارس‘ نامی سانس کی وبائی بیماری سے ہلاک ہوئے تھے۔
تاہم اس نئی وبائی بیماری کورونا وائرس سے متاثرہ افراد میں ہلاک ہونے والوں کا تناسب 2.1 فیصد ہے، جو کہ ’سارس‘ سے بہت ہی کم ہے جس میں یہ تناسب 9.6 فیصد تھا، جس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ کورونا وائرس کم مہلک وبائی مرض ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Please do Not enter your any spam link in the comment box.