معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر نے کہا ہے کہ لبرلزم کو پاکستان میں کبھی پروان نہیں چڑھنے دیں گے۔
سوشل میڈ یا پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے خلیل الرحمان قمر نے لکھا ہے کہ ’میرا جسم میری مرضی والی خواتین خود تو ملک سے باہر رہتی ہیں اور پاکستان کو تباہ کرنے کے لیے نت نئے طریقے سامنے لے آتی ہیں۔
عیاش پرست مرد ہوتا ہے عورت نہیں 90 فیصد طلاقوں میں مردوں کا ہاتھ ہوتا ہےوقار زکا اور خلیل الرحمان آمنے سامنے #BOLNews #AisayNahiChalayGa #khalilurrehmanqamar #MeraJismMeriMarzi #MarviSarmad #marvi #AuratMarch2020 #AuratAzadiMarch2020 @Dr_fizakhan @ZakaWaqar pic.twitter.com/LdNkZpc40E
— BOL NETWORK (@BOLNETWORK) March 4, 2020
پاکستان بھر میں گزشتہ روز سے دو طرح کی باتیں ہو رہی ہیں ایک طرف لو گوں کا کہنا ہے کہ ڈراما نگار خلیل الرحمان قمر نے اخلاقیات کی دھجیاں اُڑادیں، ٹی وی شو میں گفتگو کی تہذیب بھول کر آپے سے باہر ہوگئے، خاتون سماجی کارکن سے بد زبانی کرتے رہے اور گالم گلوچ پر اُترآئے۔
دوسری طر ف لوگوں کا خیال یہ بھی ہے کہ اسلامی ملک میں عورتوں کے حقوق کے نام پر ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ جیسی مہم چلائے جانے سے متعلق خلیل الرحمٰن قمر کی رائے بہت مضبوط ہے اور وہ معاشرے کے ایک بہت بڑے حصے کے خیالات کی ترجمانی بھی کرتے ہیں لیکن گزشتہ روز ایک ٹی وی ٹاک شو میں اس موضوع پر بات کرتے ہوئے وہ ایک خاتون مہمان کے ساتھ الجھ پڑے اور ایسی زبان استعمال کی جو انتہائی غیر مناسب تھی، جس کی وجہ سے اُن کی اصل دلیل ہی دب گئی اور ایک نئے تنازع نے خصوصاً سوشل میڈیا پر جنم لے لیا۔
اس سارے تنازعے کی جڑ میرا جسم میری مرضی ہے کا متنازعہ نعرہ ہے اور اگر دیکھا جائے توایک طرف بہت سے افراد نے خلیل الرحمٰن قمر کی غلط زبان کے استعمال پر اُس کی شدید مذمت کی تو دوسری طرف کئی لوگوں نے اُن کے حق میں بھی اپنی رائے دے کر معاملہ واضح کیا۔
یہاں وہ کلپ بھی شئیر کیا جا رہا ہے جہاں سے بات شروع ہوئی اور جسے چینل نے آن ایئر نہیں کیا ،جھگڑا ماروی سرمد نے ہی شروع کیا تھا جب اس نے کہا کہ بکواس بند کروتو جواب میں خلیل الرحمان قمر بھڑک اٹھے۔
وہ کلپ جہاں سے بات شروع ہوئی اور جسے چینل نے آن ایئر نہیں کیا ۔۔ جھگڑا ماروی سرمد نے ہی شروع کیا تھا جب اس نے کہا کہ بکواس بند کرو جس پر خلیل الرحمان قمر بھڑک اٹھے pic.twitter.com/W6fuFIhN3A
— راشد (@rashlhr442) March 5, 2020
خلیل الرحمٰن قمر کا کہنا ہے کہ ’ میں نے ماروی سرمد جیسی لبرل کو منہ توڑ جواب دے کر بتایا ہے کہ لبرلزم کو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کبھی پروان نہیں چڑھنے دیں گے۔
یہاں یہ با ت بھی پروان چڑھ رہی ہے کہ اگر ’’ میرا جسم میری مرضی‘‘ کی مہم غلط اور یہ نعرہ بھی ناجائز ہے تو پھر ’’میری زبان میری مرضی‘‘ کا بھی حق خلیل الرحمٰن قمر سمیت کسی کو نہیں دیا جا سکتا۔
اس تما م بحث میں یہ با ت نہیں بھولنی چاہیے کہ کسی فرد کا جسم ہو یا زبان، وہ اُن حدود و قیود کے پابند ہیں جو دین اسلام ہم مسلمانوں کے لیے طے کرتا ہے اور جس کی گارنٹی ہمارا آئین دیتا ہے۔
گزشتہ سال جو کچھ عورت مارچ کے نام پر ہوا اُس پر تو پاکستان کے لبرل اور سیکولر طبقے کی اکثریت تک نے تھو تھو کیا۔
خلیل الرحمان قمر اور سماجی کارکن ماروی سرمد کے درمیان نجی ٹی وی کے لائیو شو میں تلخ کلامی ہوگئی تھی۔ شو میں عورت مارچ کو موضوع بنایا گیا تھا۔
اب یہاں یہ با ت بھی قابل ذکر ہے کہ اُس ٹی وی چینل نے اپنی دوٹکے کی ریٹنگ کے لیے ٹاک شو کا وہ حصہ چلایا اور سوشل میڈیا پر آگ لگوادی جبکہ شو کا وہ حصہ بنیادی طور پر سنسر ہو جانا چاہیے تھا۔
ایسے معاملات میں میڈیا اپنی ذمہ داری پر بات کیوں نہیں کرتا؟
اس تنازع نے عورت مارچ کو خواہ مخواہ اہمیت دی ہے، بالکل اسی طرح جیسے کچھ حلقوں کی طرف سے یہ کہا گیا کہ وہ عورت مارچ کو روکیں گے۔
ہمیں اس معاشرے میں فحاشی و عریانیت اور بے راہ روی کو روکنا ہے تو ہمیں اس بات کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ ہم عورت کو وہ تمام حقوق دیں جو اسلام متعین کرتا ہے، اُن کا احترام کیا جائے اور عزت دی جائے جس کی وہ مستحق ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.