Popunder ads

Breaking

پیر، 19 اگست، 2019

4 سالہ بچے کی لاش

noraiz-nazir
یہ چار سالہ اویس کی دو ہفتے پرانی لاش ہے. لکی مروت کے گاؤں گَنڈی خان خیل سے چار سالہ بچہ اپنے گھر کے سامنے سے اغواء ہوتا ہے، ایف آئی آر درج کرائی جاتی ہے لیکن پولیس ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہتی ہے. اویس کے گھر والے احتجاج کرتے ہیں پولیس انہیں جھوٹی تسلیاں دے کر بھیج دیتی ہے اور خود عید کی چھٹیوں پر چلی جاتی ہے. اویس کی ماں عید پر نئے کپڑے نہیں پہن سکتی، باپ کو کوئی عید مبارک نہیں کہہ سکتا، سارا خاندان ایک افسردہ عید گزارتا ہے.
آج اویس کی بوری بند مسخ شدہ لاش کھیتوں سے ملی، یہ اویس ہے جس کے آدھے سے زیادہ جسم کو کیڑے کھا چکے ہیں، جس کی شناخت کپڑوں اور چپلوں سے ممکن ہوئی ہے. لکی مروت کے عوام نے نیشنل ہائی وے پر احتجاج کیا، گنڈی چوک بلاک کیا اور تھانے کو آگ لگا دی.. لیکن لکی مروت پاکستان میں تھوڑا ہی ہے، یہ احتجاج لاہور، کراچی یا اسلام آباد میں ہوتا تو میڈیا کوریج ملتی. لکی مروت کی خبریں کون دیتا ہے.
کیا وجہ ہے کہ ایک مہینہ گزر جاتا ہے اور بچہ بازیاب نہیں ہوتا؟ میٹرک پاس، ایف اے پاس پولیس کی کیا ٹریننگ ہے، کیا قابلیت ہے کہ وہ تفتیش کر سکے؟ اس پولیس سے زیادہ اچھی کارکردگی محلے کے کتے کی ہوتی ہے، کم از کم وہ سونگھ تو سکتا ہے. آپ لکی مروت تھانہ دیکھیں ان کے پاس تو بیٹھنے کی کرسی تک نہیں ہے. سارا بجٹ کرپشن کی نظر ہو جاتا ہے. خیبر پختون خواہ کی مثالی پولیس کہاں ہے؟
اس احتجاجی تحریر کو کاپی کر کے اپنے اپنے وال پر، گروپس میں، واٹس ایپ پر لگا کر حکامِ بالا تک پہنچائیں اور اس دکھیاری ماں کے زخم پر مرہم رکھنے کیلئے اپنی استطاعت کے مطابق احتجاج میں حصہ لیں۔
#JusticeForAwais
قمر نقیب خان

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Please do Not enter your any spam link in the comment box.