ہیگ: (23 جنوری 2020) انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا مقدمہ، عدالت کا میانمار حکومت سے روہنگیا باشندوں کی نسل کشی اور انسانی حقوق میں ملوث افراد کے خلاف اقدامات کا حکم۔ عدالت نے دو ٹوک لفظوں میں واضح کردیا کہ وہ میانمار پر لگائے جانے والے الزامات کا مقدمہ سننے کا اختیار رکھتا ہے۔
ہیگ میں میانمار حکومت کے خلاف گیمبیا نے روہنگیا باشندوں کے قتل و عام پر انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس تک رسائی حاصل کی تھی۔ عدالت نے مدعی ملک مقدمے کی کارروائی کو مزید آگے بڑھانے کی اجازت دینے کا فیصلہ بھی سنایا۔ عالمی عدالت کے مطابق روہنگیا باشندوں کی نسل کشی اور انسانی حقوق کی شہادتیں ملی ہیں۔ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے جج عبدالقوی احمد یوسف کے مطابق سماعت کے دوران میانمار حکومت عدالت کو روہنگیا باشندوں کے انخلا پر مطمئن نہیں کرسکی۔ مختلف فیکٹ فائنڈنگ رپورٹس میں روہنگیا باشندوں کے قتل عام کا انکشاف ہوا تھا۔ میانمار حکومت، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور نسل کشی کے الزام کو بھی غلط ثابت نہ کرسکی۔ مشاہدے میں آیا کہ نسل کشی کرنے والے گروپس کو میانمار کی غیر مشروط حمایت حاصل رہی۔ میانمار حکومت روہنگیا باشندوں کی نسل کشی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر کمیشن بنائے۔ کمیشن طے شدہ عالمی قوانین کے تحت تشکیل دینا چاہیے۔
عدالت کے مطابق روہنگیا باشندوں جن میں مسلمان بڑی تعداد میں شامل ہیں وہ میانمار میں غیر محفوظ ہیں۔ جن کا مزید قتل و عام کیا جاسکتا ہے۔ عالمی عدالت نے میانمار کی حکمران آن سان سوچی کے وضاحتوں کو بھی مسترد کردیا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.