لندن:(08 فروری 2020) برطانوی کراؤن کورٹ نےاسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں پاکستان کے سابق کرکٹر ناصر جمشید اور ان کے ساتھیوں کو سزا سنادی ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق انٹرنیشنل کرائم ایجنسی نے اسپاٹ فکسنگ کی تحقیقات کے بعد کرکٹر ناصر جمشید اور ان کے ساتھیوں یوسف انور اور محمد اعجاز کو سزا سنائی۔
مانچسٹر کی کراؤن کورٹ نے ناصر جمشید کو سترہ ماہ جبکہ یوسف انور کو ساڑھے تین سال اور اعجاز احمد کو ڈھائی سال قید کی سزا سنائی،پولیس نے تینوں ملزمان کو سزا سنائے جانے کے بعد کراؤن کورٹ سے گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا ہے۔
نیشنل کرائم ایجنسی نے تحقیقات کے بعد اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں ناصر جمشید کو گرفتار کیا تھا، ناصر جمشید اور ساتھیوں نے بنگلا دیش پریمئیر لیگ دوہزار سولہ اور پی ایس ایل دوہزار سترہ کے دوران اسپاٹ فکسنگ کی کوشش کی۔
میڈیا رپوٹس کے مطابق بی پی ایل کے دوران بلے باز کو رقم کے عوض اوور کی پہلی دو گیندوں پر رن نہ بنانے پر راضی کیا گیا،دوہزار سولہ میں ناصر جمشید نے خفیہ اہلکار کو بتایا کہ بی پی ایل کے چھ کھلاڑی ان کے لیے کام کر رہے ہیں اور فی میچ تیس ہزار پاؤنڈ (60 لاکھ روپے) کی رقم کھلاڑیوں میں تقسیم ہوئی۔
ناصر جمشید نے شروع میں پی ایس ایل میں رشوت کی تردید کے بعد کورٹ میں اعتراف کیا جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے گزشتہ برس ناصر جمشید پر دس برس کی پابندی عائد کی تھی۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.