کراچی: (17 فروری 2020) کیماڑی کراچی میں مبینہ زہریلی گیس سے دو خواتین، ایک بچے سمیت چھ افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک سو بتیس افراد متاثر ہوئے۔ ضیا الدین اسپتال میں سو،کتیانہ میمن بائیس اور جناح اسپتال میں آٹھ افراد زیر علاج ہیں۔ متاثرہ افراد کو سانس لینے میں دشواری اور پیٹ میں درد کی شکایت ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنرکراچی سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ترجمان کے پی ٹی کا کہنا ہے کہ پورٹ پر کوئی ایسا جہاز نہیں لگا جس سے زہریلی گیس کی بو پھیلی ہو۔
کیمیکل سے بھرا ایک جہاز پورٹ پر لنگر انداز ہونے کے بعد گیس کے اخراج سے پچیس سے زائد افراد کی حالت غیر ہوگئی بے ہوشی کی حالت میں پچیس سے زائد افراد کو اسپتال لایا گیا جن میں چھ افراد دوران علاج دم توڑ گئے۔ جہاز کو آف لوڈ کرنے کے لئے ڈاکس کھولی گئیں تو کیمیکل کی بو ہوا میں پھیل گئی۔کیمیکل اتنا خطرناک ہے کہ جس نے ایک دم متعدد افراد کو متاثر کیا ہے۔ چیف آپریٹنگ آفیسر ضیاء الدین اسپتال ڈاکٹر فہیم کا کہنا ہے کہ اب تک ستر سے زائد مریض اسپتال لائے جاچکے ہیں۔تمام افراد کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے۔ سربراہ ایدھی فاونڈیشن فیصل ایدھی بھی ضیاء الدین اسپتال پہنچے۔ فیصل ایدھی نے کہا کہ پورٹ ایریا میں زہریلی گیس کا اخراج ہوا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کیماڑی میں مبینہ زہریلی گیس پھیلنے کا نوٹس لے لیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے چار افراد کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کمشنر کراچی سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کا بہترین علاج کرنے کا بندوبست کیا جائے۔ سول، جناح اور عباسی شہید اسپتالوں میں مکمل انتظامات کئے جائیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر اور اسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ڈاکٹرز کو ڈیوٹی پر ہونا یقینی بنایا جائے۔ ڈی سیز اور ایس ایس پیز اپنے اسٹاف کے ذریعے عوام کی مدد کرے۔ اگر زہریلی گیس کا پھیلنا ہی مسئلہ ہے تو اس کے خاتمہ کے لیئے اقدامات کئے جائیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.