Popunder ads

Breaking

بدھ، 5 فروری، 2020

خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد کشمیر میں ذہنی امراض میں اضافہ

لندن: (5 فروری 2020) برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد وادی میں ذہنی امراض میں اضافہ۔ پلواما میں ڈپریشن کے شکار مریضوں کی تعداد میں ڈیڑہ سو فی صد اضافہ وہا ہے ۔
مقبوضہ کشمیر میں طبی سہولیات فراہم کرنے والے ڈاکٹرز نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ کشمیری شدید ذہنی تناؤ، یادداشت کھو جانا، احساس محرومی اور دیگر مختلف ذہنی بیماریوں کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ پلواما کے ایک اسپتال میں جہاں ستر مریض آتے تھے اب ان میں ڈیڑہ سو فی صد اضافہ ہوا ہے۔ سری نگر میں ذہنی صحت کے مرکز میں ہر سال دو ہزار مریض آتے تھے اور اب یہ تعداد ایک لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ ہر کشمیری خوف و ہراس کا شکار ہے اسی لیے اسے مستقل ٹراما کہا جاسکتا ہے۔
وادی کی نصف آبادی شدید ڈپریشن کا شکار ہے۔ جو نیند کی گولیاں کھا کر سونے پر مجبور ہے۔ ہر سو میں سے پندرہ خواتین ذہنی بیماریوں کی مریض ہیں۔ مردوں کے برعکس سات گنا زیادہ خواتین مایوسی اور لاچارگی کا شکار ہیں۔ وجہ صرف یہ ہے کہ ان کے پاس اپنی پریشانی کو بتانے اور اس کے حل کے راستے انتہائی کم ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Please do Not enter your any spam link in the comment box.