Popunder ads

Breaking

بدھ، 5 فروری، 2020

مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ چھ ماہ سے انسانی حقوق کی بدترین صورتحال

سرینگر: (5 فروری 2020) مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعدچھ ماہ سے لاکھوں افراد کرفیو سمیت مختلف پابندیوں کا شکار ہیں۔کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین سطح پر پامالی جاری ہے۔گزشتہ چھ ماہ سے مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی بدترین ہے۔
کشمیر برصغیر پاک و ہند کی آزادی کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ جہاں گزشتہ 72 برسوں سے مقبوضہ کشمیر کے عوام جدوجہد آزادی میں مصروف ہیں۔ ظلم و بربرہت کا کونسا ہتھکنڈہ ہے جو اپنے آپ کو پیشہ ورانہ فوج کہلانے والے بھارتی درندے مظلوم، نہتے اور بے بس کشمیریوں پر نہیں آزما رہے۔
گزشتہ سال اگست میں بھارتی آئین سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے بعد مظلوم کشمیری عوام کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں چھ ماہ سے جاری کرفیو کے باعث 80 لاکھ سے زائد کشمیری عوام نقل و حرکت کی آزادی سے محروم جبکہ وادی میں انٹرنیٹ اور ٹیلیفون سمیت مواصلاتی نظام کی بندش کے باعث دنیا بھر سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔
ان تمام پابندیوں کے ساتھ اسی لاکھ کشمیریوں پر نو لاکھ بھارتی فوجی تعیبنات ہیں۔ درحقیقت اس وقت ہر ایک کشمیری گھر کے باہر خطرناک کیمیائی ہتھیاروں سے لیس ایک بھارتی فوجی تعینات ہے۔ نوجوانوں اور بچوں کو بلاجواز گرفتار کرکے ظلم و بربریت کی انسانیت سوز داستانیں رقم کی جاتی ہیں۔ خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ پیلٹ گن کے عام استعمال کے باعث ہزاروں کشمیری نوجوان اور بچے مکمل یا جزوی بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔
پانچ اگست کے بعد کشمیریوں کے حالات دنیا کے سامنے لانے کے نام نہاد جرم میں کم از کم چھ صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے دوہزار اٹھارہ میں جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق بھارتی افواج مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے ساتھ ساتھ بھارتی فوج کے مظالم کو بھی دنیا کے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Please do Not enter your any spam link in the comment box.