تصویر: انسٹاگرام
بالی ووڈ کو خیرباد کہنے والی سابق اداکارہ زائرہ وسیم مقبوضہ کشمیر ميں بھارتی مظالم کے خلاف بول پڑیں۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والی زائرہ نے انسٹا گرام پر کئی سوالات اٹھا ديے ۔
سوشل میڈیا کا سہارا لے کر زائرہ نے اپنے تحفظات بیان کرتے ہوئے لکھا کہ ہماری آزادی پر قدغن لگانا بے حد آسان ہے، ہم روز دنیا کو اپنے وجود کی یاد دلانے کيلئے لڑتےہيں۔ ہماری زندگی اور خواہشات کو قابو کیا جا رہا ہے۔
دنگل فیم زائرہ نے سوال اٹھایا کہ کشمیریوں کی زندگی بحران،پابندیوں،رکاوٹوں تک کیوں سمٹ گئی؟ ہمیں مسلسل احکامات ملتے ہيں اور جھکنے پر مجبور کیا جاتا ہے، ہماری آوازوں کو خاموش کرنا اتنا آسان کیوں ہے؟۔
زائرہ وسيم نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر طویل پوسٹ میں کشمیر کی صورتحال سے متعلق طویل پوسٹ میں لکھا کہ مسلسل تکليف کاشکار کشمیري امیدوں اور مایوسیوں کے درمیان جھول رہے ہيں۔
زائرہ وسيم نے اپني انسٹاگرام پوسٹ ميں جہاں اور بہت سے سخت سوالات اٹھائے وہيں اپنے مداحوں سے يہ بھي کہا کہ میڈیا کشمير سے متعلق آپ کے سامنے جو تصویر پیش کر رہا ہے اس پر یقین نہ کریں۔ غلط حقائق اور غلط تصاویر پر یقین نہ کریں۔
سابق اداکارہ نے بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ جو دعوے کیے جا رہے ہیں ان پر سوال اٹھائیے۔ ہم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ ہماری آوازیں کب تک کے لیے خاموش کر دی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ زائرہ وسیم کو فلم ’’دنگل ‘‘ سے شہرت حاصل ہوئی تھی جس میں انہوں نے عامرخان کی بیٹی کا کردار ادا کیا تھا۔ 18 سالہ اسٹار نے سال 2019 کے وسط میں بالی ووڈ چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس فیلڈ میں کام کرنے کی وجہ سے ان کا ایمان خطرے میں پڑرہا ہے اور وہ بہت خاموشی سے اپنے مذہب سے دور ہوتی جارہی ہیں لہٰذا وہ فلم انڈسٹری چھوڑرہی ہیں۔
زائرہ نے اپنے محدود کیرئیر میں صرف 3 فلمیں کیں جن میں ’’دنگل‘‘ ، ’’سیکرٹ سپراسٹار‘‘ اور ’’دی اسکائی ازپنک‘‘ شامل ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.