Popunder ads

Breaking

اتوار، 23 فروری، 2020

میشا شفیع کے علی ظفر پر ہتک عزت دعوے پر سماعت روکنے کا تحریری حکم نامہ جاری

لاہور کی سيشن عدالت نے معروف گلوکار علی ظفر کے خلاف میشا شفیع کے ہتک عزت کے دعوے پر سماعت روکنے کا تحريری حکم جاری کر ديا۔
گلوکارعلی ظفر نے سيشن عدالت ميں دائر درخواست ميں استدعا کی تھی کہ ان کی جانب سے دائر دعوے کا فيصلہ ہونے تک ميشا شفيع کےہتک عزت کےدعوے پرسماعت روکی جائے۔
ایڈیشل سیشن جج امجد علی شاہ نے 12 صفحات پر مشتمل فیصلے میں لکھا ہے کہ علی ظفر کا دعوی پہلے ہی زیر سماعت ہے، اسی نوعیت کے دعوے پر سماعت نہیں ہوسکتی۔
عدالت نے میشا شفیع کی جانب سے دائر دعوے پر سماعت روک دی۔ حکم صادر کیا کہ علی ظفر کے ہتک عزت کے دعوے پر سماعت مکمل ہونے تک میشا کے دعوے پر سماعت نہیں ہوگی۔
کئی بار میشا شفیع کی جانب سے معافی کے پیغامات آئےخیال  رہے  کہ  عدالت نے 13  فروری کو علی ظفر کے حق ميں فيصلہ سناتے ہوئے مشیاشفيع کے ہتک عزت کے دعوے پر سماعت روکنے کا حکم ديا تھا۔
تاہم اب بارہ صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے ميں کہا گيا ہے کہ دونوں گلوکاروں کے دعوے ایک ہی نوعیت کے ہیں۔
علی ظفر کا دعوی پہلے سے زیر سماعت ہے جس میں گواہوں کے بیانات بھی ریکارڈ ہوچکے ہیں اس دوران اسی نوعیت کے دعوے پر سماعت نہیں ہوسکتی ۔
واضح رہے کہ گلوکارہ میشا شفیع نے دو برس قبل اپریل میں علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ علی نے انہیں کئی بار جنسی طور پر ہراساں کیا۔
تاہم علی ظفر نے میشا شفیع کے تمام الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے ان پر 100 کروڑ ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔
جس کے جواب میں گلوکارہ میشا شفیع نے بھی علی ظفر کو ان پر جھوٹے الزامات لگانے، بدنام کرنے اور ان کی شخصیت کو نقصان پہنچانے کے لیے 200 کروڑ کا لیگل نوٹس بھجوایا تھا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Please do Not enter your any spam link in the comment box.