پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ آئندہ کوالالمپور سربراہی اجلاس میں شرکت کرنا چاہیں گے اور اس سے پاکستان کے دیگر مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات پر اثر نہیں پڑے گا۔
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان اس وقت ملائشیا کے دو روزہ دورے پر ہیں جہاں انھوں نے اپنے ملائیشیائی ہم منصب مہاتیر محمد سے ملاقات کی۔
ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی جہاں عمران خان نے کہا کہ انہیں گذشہ برس دسمبر میں ہونے والے کوالالمپور سربراہی اجلاس میں شریک نہ ہونے پر افسوس ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ 'بدقسمتی سے پاکستان کے بہت قریب ہمارے کچھ دوستوں کو یہ محسوس ہوا کہ شاید یہ کانفرنس امہ کو تقسیم کردے گی، جو واضح طور پر ایک غلط فہمی تھی کیوںکہ کانفرنس کے انعقاد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا مقصد امہ کی تقسیم نہیں تھا'۔
ان کا کہنا تھا کہ 'تمام غلط فہمیوں کے پیشِ نظر چاہے وہ دانستہ ہوں یا غیر دانستہ، یہ اہم ہے کہ مسلمان ممالک ہمارے نبی ﷺ کے حقیقی پیغام کے بارے میں بتائیں'۔
کوالالمپور سمٹ کیا ہے؟
ملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں ہونے والے اس سربراہی اجلاس میں مسلم رہنما، دانشور اور دنیا بھر سے سکالر مسلم دنیا کو درپیش مسائل اور ان ممالک کے باہمی دلچسپی کے امور کے بارے میں تبادلہ خیال کے لیے ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم پر اکھٹے ہوتے ہیں۔
اس کا پہلا اجلاس نومبر 2014 میں کوالالمپور میں ہوا تھا، جس میں معروف مسلم شخصیات کے درمیان مسلم دنیا کو درپیش مسائل کے لیے نئے اور قابل قدر حل تلاش کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
ملائیشیا کے وزیر اعظم 94 سالہ ڈاکٹر مہاتیر محمد 2019 کے سربراہی اجلاس کے چیئرمین تھے جنھوں نے اس کا قیام اس مقصد کے تحت کیا تھا کہ مسلم رہنماؤں، دانشوروں اور علمائے کرام کو جمع کر کے مسلم دنیا کو درپیش مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل تلاش کیا جاسکے۔
جبکہ اس برس ہونے والے سربراہی اجلاس میں پاکستان، ایران، انڈونیشیا کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔
اس سربراہی اجلاس میں ترکی سے صدر طیب اردغان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی، انڈونیشیا کے صدر جوکو ودودو نے شرکت کی جبکہ پاکستان سے عمران خان کو اجلاس میں شریک ہونا تھا۔
عمران خان اور مہاتیر محمد

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد سے متاثر ہیں جس کا وہ متعدد مرتبہ برملا اظہار بھر کر چکے ہیں۔
عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تو اپنے جلسوں میں مہاتیر محمد کے طرز حکومت اور ان کے نظریے کے گن گاتے تھے اور حکومت سنبھالنے کے بعد بھی مہاتیر محمد کے ویژن کی تعریف کرتے ہوئے ملائیشین ماڈل کو ملک میں اپنانے کی بات کرتے رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران بھی وزیر اعظم عمران خان نے ترک صدر اور ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد سے ملاقات میں مسلم امہ کی مثبت عکاسی کے لیے مل کر ایک نیا ٹی وی چینل بنانے کا اعلان بھی کیا تھا۔
جبکہ عمران خان کے دورہ ملائیشیا کے دوران مہاتیر محمد نے انھیں ملائیشیا میں تیار کردہ ایک گاڑی بھی تحفہ میں دی تھی۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.