وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ترک صدر کے دورہ پاکستان پر ترکی کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت دی جائے گی۔ رواں ماہ ترک صدر کے دورہ پاکستان کے موقع پر پاکستان اور ترکی کے درمیان دہری شہریت کے معاہدے پر بھی دستخط متوقع ہے۔
ہفتہ کے روز ترک میڈیا کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں پاکستانی وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ صدر رجب طیب ایردوان فروری کے وسط میں پاکستان کا دورہ کریں گے، یہ دورہ کئی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہوگا۔ دورے سے اسلام آباد اور انقرہ کے درمیان برادرانہ رشتے کو مضبوط کرنے کا موقع ملے گا۔ اس رشتے کی یاد تحریک خلافت سے جڑی ہے۔
سی پیک میں شمولیت
انہوں نے کہا کہ ترکی کے ساتھ تعلقات تحریک خلافت کے وقت سے ہیں۔ ترکی کے عوام اب تک اس مدد کی تعریف کرتے ہیں۔ ترکی کے ساتھ ریاستی سطح پر مضبوط برادرانہ تعلقات ہیں، انھیں مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر وزیراعظم نے بتایا کہ ترک صدر کے دورے کے موقع پر پاکستان کی جانب سے ترکی کو سی پیک میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔
عالمی حالات
عالمی سطح پر رونما ہونے والے حالات پر عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاملات کے مستقل حل کی ضرورت ہے، پاکستان کی سفارتی کوششوں سے ایران امریکا تناؤ میں کمی ہوئی، پاکستان مسلم ممالک کے تنازعات کے حل کے لیے کردار ادا کرتا رہے گا، جب کہ کشمیر سے متعلق انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں، آر ایس ایس کا نظریہ یہ ہے کہ بھارت صرف ہندؤوں کا ہے، بھارت میں 20 کروڑ مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، بھارت نسل پرستانہ نظریات پر عمل پیرا ہے۔
تمام تصاویر انا دولو ایجنسی کی سائٹ سے لی گئی ہےملکی معیشت
ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم خان نے بتایا کہ پاکستان کی اقتصادی صورت حال مستحکم ہوگئی، حکومت کا اگلا ہدف مہنگائی پر قابو پا کر ملکی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔ موجودہ حکومت نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر 75 فیصد قابو پا لیا ہے، جس کی وجہ سے اپوزیشن خوف زدہ ہے کہ اگر حکومت کامیاب ہوگئی تو ان کی سیاست ختم ہوجائے گی۔
پاک ترک دہری شہریت کا معاہدہ
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس اہم دورے کے دوران پاکستان اور ترکی کے درمیان دہری شہریت کے معاہدہ پر دستخط بھی متوقع ہیں۔ گزشتہ ہفتے پاکستان کے وزیر داخلہ اعجاز شاہ اور اسلام آباد میں ترک سفیر مصطفیٰ یرداکل کے مابین ملاقات میں دہری شہریت کے معاہدے پر غور کیا گیا تھا، جس پر دونوں نے اتفاق کیا۔ اس معاہدے پر صدر رجب طیب ایردوان کے دورہ پاکستان کے موقع پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.