کابل۔ 29 فروری (اے پی پی) اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان نے افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کو تاریخی اور خوش آئند اقدام قرار دیتے ہوئے توقع کا اظہار کیا ہے کہ اس سے مستقل جنگ بندی اور بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار ہو گی۔ اپنے ایک بیان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان نے تشدد میں کمی لانے کے عزم کی پابندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ امن معاہدے کے بعد بین الافغان مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا۔ افغانستان کیلئے عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل کے نمائندہ خصوصی تدامچی یماموتو نے کہا ہے کہ تمام فریقین کو لڑائی کے خاتمے کے لئے حقیقی اور ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ امن کی کوششوں کے سلسلے میں بین الافغان مکالمہ ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ یماموتو نے کہا کہ اقوام متحدہ تمام فریقین کی جانب سے بین الافغان مذاکرات کے آغاز کے عزم کا بھی خیر مقدم کرتا ہے۔ نمائندہ خصوصی نے کہا کہ اقوام متحدہ افغان قیادت والے عمل کی حمایت پر تیار ہے جس میں تمام فریقین کو شامل کیا جائے جس میں خواتین، اقلیتوں اور نوجوانوں کی نمائندگی یقینی ہو اور تمام شہریوں کے انسانی حقوق کی سربلندی کا عزم شامل ہو اور جن کاوشوں کے نتیجے میں افغانستان میں دیرپہ امن کا قیام ممکن ہو گا۔ ہفتہ کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ طے پایا جس کے نتیجے میں آئندہ 14 ماہ کے دوران افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج کے انخلاء کی راہ ہموار ہو گی اور اس اقدام کے نتیجے میں 19 برس سے جاری لڑائی کا خاتمہ ہو گا۔
اتوار، 1 مارچ، 2020
اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان کا افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کا خیر مقدم
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
Please do Not enter your any spam link in the comment box.