Popunder ads

Breaking

منگل، 3 مارچ، 2020

مستقبل میں مہنگائی بڑھتی نظر آرہی ہے، گورنر اسٹیٹ بینک

کراچی: (02 مارچ 2020) گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کا کہنا ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے بنیادی شرح سود بڑھائیں کیونکہ مستقبل میں مہنگائی بڑھتی نظر آرہی ہے۔
انگلش اسپیکنگ یونین کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ چاہتے ہیں کہ زیر گردش کرنسی نوٹوں کا استعمال کم ہو، اسٹیٹ بینک مانیٹری پالیسی، لین دیں کے نظام اور ایکسچینج ریٹ کو مقرر کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 7 ارب ڈالر رہ گئے تھے جبکہ فوری طور پر ادائیگیاں 8 ارب ڈالر تھیں، پاکستان کو ادائیگیوں کے لئے بھی ایک ارب ڈالر کم تھا۔ رضا باقر کا مزید کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ بیس کردیا، کسی بھی ملک کا ایکسچینج ریٹ کیا ہوگا یہ کوئی نہیں بتا سکتا ہے، کسی بھی ملک کے پاس جتنا زیادہ زرمبادلہ ذخائر ہوگا وہ ملک اتنا ہی خودمختار ہوگا۔
گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ پاکستان کو گرتے ہوئے زرمبادلہ ذخائر کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے، زرمبادلہ ذخائر معاشی خودمختاری اور آزادی فراہم کرتا ہے، گزشتہ چند ماہ میں زرمبادلہ ذخائر 9 ارب ڈالر سے زائد بڑھ گئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ معاشی صورتحال میں بہتری آرہی ہے، اصلاحات کی وجہ سے چیزیں بہتر ہوتی نظر آرہی ہیں، مانیٹری پالیسی کمیٹی نے بنیادی شرح سود بڑھائیں کیونکہ مستقبل میں مہنگائی بڑھتی نظر آرہی ہے، افراط زر کے حالیہ اعدادوشمار حوصلہ افزاء ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Please do Not enter your any spam link in the comment box.